وزیراعظم شہباز شریف ،شکریہ

تحریر: سردارعبدالخالق وصی

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آزاد جموں وکشمیر کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے تین دانش سکولوں میں سے بھمبر آزاد کشمیر میں پہلے دانش سکول پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر وزیراعظم پاکستان کے ھمراہ وفاقی وزراء،پاکستان مسلم لیگ ن آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سکریٹری جنرل چوھدری طارق فاروق جو اس حلقہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈر ر اور سابق سینئر وزیر حکومت بھی موجود تھے۔ اس سے قبل جب وزیراعظم بھمبر پہنچے تو وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر،مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر کے صدر و سکریٹری جنرل و دیگر اعلیٰ حکام نے ہیلی پیڈ پر استقبال کیا۔

منعقدہ تقریب سے وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے خطاب کیا جبکہ وفاقی سکریٹری تعلیم محی الدین احمد وانی نے سٹیج سکریٹری کے فرائض انجام دئیے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ،وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، مشیر برائے یوتھ افیئرز رانا مشہود احمد، آزاد جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں،آل پارٹیز حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر کے صدور و قائدین اور مقامی سیاسی وسماجی زعما بھی موجود تھے۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے لئے پہلے مرحلے میں تین دانش سکولوں کا تحفہ ملنے پر اپنی طرف سے دلی مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دانش سکولوں کی بنیاد میرے قائد محمد نواز شریف کی سربرہی میں 2010 میں پنجاب میں رکھی گئی تھی تاکہ ہنجاب کے دور افتادہ علاقوں کے یتیم،مستحق اور خدا داد صلاحیتوں اور اہلیت کے حامل بچوں کو جو تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے انہیں اعلیٰ معیار کے اداروں کے مساوی تعلیم ماحول اور سہولیات فراہم کئے جائیں تاکہ وہ بھی صدور، وزرا اعظم،اعلی عدلیہ کے ججوں،بیوروکریٹس، اعلیٰ حکام اور امیر کبیر والدین کے بچوں جنہیں وسیع وسائل معیشت دستیاب ہوتے ہیں اور وہ ایچ ایسن اور اسطرح کے دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر کے اعلی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اپنی تعلیمی قابلیت کے بل بوتے پر مساویانہ طور پر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ایک معمار کا کردار ادا کر سکیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مرنے کے بعد یہ خاکسار جب اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا اور مجھ سے اللہ پوچھے گا کہ تم نے پاکستان کے مستحق بچوں کے لئے کیا کیا تو انتہائی ادب سے عرض کروں گا کہ میں نے دور افتادہ علاقوں اور وسائل سے محروم ان بے سہارا بچوں کو تعلیم دینے کے لئے دانش سکولوں کا قیام عمل میں لایا۔ اگر انہیں یہ موقع نہ ملتا تو یہ اپنے گلی محلوں کی دھول پھانکتے بے بسی کی زندگی گزار رہے ہوتے۔

آج مجھے انتہائی خوشی ہورہی ہے کہ میں آزاد جموں وکشمیر کے عوام کے لئے پہلے مرحلے میں تین دانش سکولوں میں سے پہلے سکولوں کے اجرا کا بھمبر کی سر زمین پر سنگ بنیاد کر رہا ہوں ۔ دوسرے دو دانش سکولوں مظفر آباد اور پونچھ ڈویثرن میں نیلم اور باغ میں جلد افتتاح کیا جائے گا جو ایک سال کے اندر اندر تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے بچوں اور بچیوں کے لئے الگ الگ کیمپسز،ٹیچرز،ہاسٹلز،کچنز اور کھیل کے میدانوں کی سہولیات کے ساتھ فنکشنل ہو جائیں گے اور کوشش ہوگی کہ مساوی معیار و قابلیت کے حامل مقامی اساتذہ خواتین و مردوں سمیت تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔اور پھر مزید علاقوں میں بھی ضرورت کے مطابق مزید اداروں کا جال بچھائیں گے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ان دانش سکولوں کے اجرا سے مقبوضہ کشمیر کے عوام جو آزادی کی جنگ لڑ رھے ھیں اور بھارتی افواج کے سفاکانہ مظالم کا دلیری اور جرات مندی سے مقابلہ کر رھے ھیں ھم انکی ھر ممکن اخلاقی،سیاسی و سفارتی سطح پر نہ صرف بھرپور حمایت کر رھے ھیں بلکہ آج حریت کانفرنس کے زعما کو یقین دلاتا ھوں کہ پاکستان انکی جدوجہد اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کے حصول میں جب تک وہ آزادی حاصل کرتے انکی مکمل حمایت جاری رکھیں گے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام اور ھمارے سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر کی کشمیر سے غیر متزلزل کمٹمنٹ سب پر عیاں ھے جسکی مثال ملنا مشکل ھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انکی نانی اور والدہ کشمیر شوپیاں کی رھنے والی تھیں اور والد گرامی کے بزرگوں کا وطن کشمیر تھا میں پہلے مسلمان ھوں پھر پاکستانی اور کشمیر سے میری اور میرے خاندان کی وابستگی پر مجھے فخر ہے اور میں میرا خاندان میرا ملک پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اخری وقت تک کھڑا ہے جب تک وہاں آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی آزاد جموں کشمیر میں ان تعلیمی اداروں کے قیام سے دلی خوشی ہوگی کہ آزاد جموں وکشمیر کے بچوں کو وہ سہولیات مل رہی ہیں جو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کو خطیر رقم خرچ کر کے ملتی ھے وہ ان بچوں کو مفت ملے گی۔دانش سکولوں کا یہ سلسلہ گلگت بلتستان، فاٹا،بلوچستان اور دیگر دور افتادہ علاقوں تک پھیلایا جائے گا۔

عمران خان کی سابق حکومت کی پالیسیوں باعث ڈیفالٹ کے خطرے کا شکار پاکستان آج الحمدللہ ترقی کی طرف گامزن ھے مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر4اعشاریہ 1 فیصد تک آگئی ہے ورلڈ بنک پاکستان کو اگلے دس برسوں میں تقریباًبیس ارب ڈالر کی امداد ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ، تعلیم،صحت اور دیگر شعبوں کے لئے فراہم کرے گا۔ پاکستان کے قرضوں میں واضح کمی آ رہی ہے ترسیلات زر میں اضافہ جاری ہے،IMF کا پروگرام کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اور آج ہم اتحاد و یکجہتی، محنت،جدوجہد اور ایثار کے جذبے سے سرشار ہو کر ترقی کی طرف گامزن ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جزباتی انداز میں یہ اشعار دہرائے۔
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے بحیثیت وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے دور حکومت میں آزاد جموں وکشمیر کے طلبا و طالبات کو پنجاب کے طلباء و طالبات کے مساوی لیپ ٹاپس،ایوارڈز، انعامات،سکالر شپس اور بیرونی ممالک میں دوروں کی سہولیات فراہم کی ہوئی تھیں اور آج پنجاب و پاکستان کے مساوی دانش سکولوں کے اجراء کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزیر امور کشمیر نے وفاقی حکومت کی جانب سے آزاد جموں کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات اور وافر فنڈز کی فراھمی پر قائد نوازشریف اور وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے ہمیشہ آزاد کشمیر کو اپنی ترجیحات میں سر فہرست رکھا جسکا پاکستان کی کوئی دیگر حکومت مقابلہ نہیں کر سکتی وزیر امور کشمیر نے پاکستان مسلم لیگ ن نے آزاد جموں وکشمیر مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں گراں قدر خدمات کو سراہا اور کہا کہ آئندہ بھی مسلم لیگ ن ہی آزاد جموں کشمیر کے عوام کی خدمت کرے گی۔

وفاقی وزیر تعلیم نے دانش سکول بارے اظہار خیال کیا جبکہ وفاقی سکریٹری تعلیم محی الدین احمد وانی نے دانش سکول سسٹم کے بارے تفصیلات بیان کرتے ہوئے اسکے تاریخی پس منظر سے اگاہ کیادانش سکول کا منصوبہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر 2010 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کے ہونہار طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنا تھا۔ اس منصوبے کا آغاز اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کیا تھا، جنہوں نے ایسے سکولوں کے نیٹ ورک کا تصور کیا جو پسماندہ بچوں کو جدید تعلیم فراہم کرے گا۔ اس کے مقاصد میں تعلیمی فضیلت، کردار سازی، اور شخصیت کی نشوونما پر توجہ کے ساتھ، کم آمدنی والے خاندانوں کے ہونہار طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنا۔ معیاری تعلیم تک رسائی اور ذاتی ترقی اور ترقی کے مواقع فراہم کرکے پسماندہ کمیونٹیز میں سماجی نقل و حرکت کو فروغ دینا،پسماندہ علاقوں میں اسکول قائم کرکے اور سماجی اور معاشی تبدیلی کے کلیدی محرک کے طور پر تعلیم کو فروغ دے کر کمیونٹی کی ترقی میں حصہ ڈالنا۔

دانش اسکول پروجیکٹ کی کچھ اہم خصوصیات یہ ہیں۔ اسکول میرٹ پر منتخب ہونے والے 100 طلباء کو مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں، جبکہ 10 طلباء سیلف فنانسنگ کی بنیاد پر شامل ہوسکتے ہیں۔ اسکول جدید کلاس رومز، لائبریریز، کمپیوٹر اور سائنس لیبز، اور بورڈنگ کی سہولیات سے آراستہ ہیں۔ تجربہ کار فیکلٹی اسکولوں میں تجربہ کار اور اہل فیکلٹی ممبران ہیں جو طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ اسکول ایک جامع نصاب کی پیروی کرتے ہیں جس میں تعلیمی مضامین، غیر نصابی سرگرمیاں، اور کردار سازی کے پروگرام شامل ہیں۔ بورڈنگ کی سہولیات اسکول طلباء کے لیے بورڈنگ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ ہاسٹل ہیں۔ دانش سکول پنجاب کے مختلف اضلاع میں واقع ہیں۔ چشتیاں، حاصل پور،رحیم یار خان، میانوالی،راجن پور، ڈیرہ غازی خان،اٹک،وہاڑی۔ سیالکوٹاس منصوبے کو آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان،فاٹا جو خیبر پختونخوا میں ضم ھو چکا ھےاور بلوچستان سمیت دیگر صوبوں تک توسیع دی گئی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پسماندہ بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی پر توجہ دینے کے ساتھ ملک بھر میں مزید دانش سکولوں کے قیام کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ دانش سکول کے منصوبے نے ہزاروں طلباء اور ان کے خاندانوں کی زندگیوں پر نمایاں اثر ڈالا ہے۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے ہونہار طلباء کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی فراہم کی گئی۔ سماجی نقل و حرکت کو فروغ دیا گیا۔ ذاتی ترقی کے مواقع فراہم کرکے پسماندہ کمیونٹیز میں سماجی نقل و حرکت کو فروغ دیا، ترقی یافتہ کمیونٹی لیڈرز اور تبدیلی لانے والے جو اپنی کمیونٹیز کی سماجی اور معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر، دانش سکول کا منصوبہ ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد پاکستان میں پسماندہ کمیونٹیز میں تعلیم اور سماجی نقل و حرکت کو فروغ دینا شامل ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے