ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی کیپیٹل ہل پر حملہ کرنے والے 1600 افراد کو معافی دیدی
امریکہ کے 47 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے فورا بعد سابق صدر جو بائیڈن کے دور اقتدار میں جاری ہونے والے 78 صدارتی حکمناموں کو منسوخ کرتے ہوئے بہت سے نئے ایگزیکٹیو آرڈرز جاری کر دیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے 2021 میں کیپیٹل ہل فسادات میں سزا پانے والے اپنے سینکڑوں حامیوں کو معافی دینے کے حکمنامے پر بھی دستخط کر دیے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری تقریب کے بعد کیپٹل ون ارینا میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پولیس سمیت مختلف اداروں کے دستوں کی جانب سے نو منتخب صدر کو سلامی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا آج سے سنہرے دور میں داخل ہوگیا، غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجیں گے، ٹرمپ
صدر ٹرمپ کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے بھی خطاب کیا اور تقریب میں اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کا تعارف کر ایا۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے متعدد ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے اور سابق صدر جو بائیڈن کے 78 صدارتی اقدمات بھی منسوخ کر دیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے کیپٹل حملے میں ملوث 1500 افراد کو معافی دینے کے آرڈر پر دستخط کیے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے فیڈرل ملازمین کی بھرتیاں منجمد کرنے کے آرڈر پر دستخط کر دیے۔ٹرمپ نے فیڈرل ملازمین کے لیے گھر سے کام کرنے کے سہولت بھی ختم کر دی۔
ٹرمپ نے امریکا کی پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کے آرڈر پر دستخط کیے اور ساتھ ہی مصنوعی ذہانت پالیسی سےمتعلق بائیڈن کا ایگزیکٹو آرڈرمنسوخ کردیا۔ صدر ٹرمپ نے بائیڈن کا 2030 تک الیکٹرک کاروں کی فروخت کا ہدف 50 فیصد کرنے کا آرڈر بھی منسوخ کیا۔
ٹرمپ نے بارڈر سے متعلق اور تارکین وطن کےداخلے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے، کارٹلز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے۔
صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں میں امریکا کو اولین ترجیح دینے کے آرڈر پر دستخط کیے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے امریکی خاندانوں کو قیمتوں میں ایمرجنسی ریلیف دینے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے جبکہ سیاسی مخالفین کے خلاف وفاقی حکومت کو مسلح کرنے کی پالیسی بھی منسوخ کر دی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نگران کابینہ اور کابینہ سطح کے عہدوں کا بھی اعلان کیا، نگران کابینہ کے اراکین عہدوں پر باضابطہ تقرری تک خدمات انجام دیں گے۔ ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔
صدر ٹرمپ نے ٹاک ٹاک سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر ٹک ٹاک کو خریدنے یا بند کرنے اختیار دیتا ہے، ہم نے ٹک ٹاک ڈیل کی اور چین نےتوثیق نہیں کی تو چین پر ٹیرف عائد کرسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کو اگلے 75 دن تک ٹک ٹاک پرکوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک سے متعلق ڈیل کر بھی سکتا ہوں ، ٹاک ٹاک ڈیل کی تو اس کی 50 فیصد ملکیت حاصل کرنا ہوگی، ڈیل نہیں کی تو ٹک ٹاک کسی کام کا نہیں رہےگا۔
ٹرمپ نے جسٹس ڈپارٹمنٹ کو 6 جنوری حملے سے متعلق تمام مؤخر کیسز ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت سےعلیحدہ ہونےکے آرڈر پر بھی دستخط کر دیے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں