ڈاکٹر راجہ زاہد خان کا بھارتی فورسز پر کیمیائی، ریڈیائی شعاعوں اور نیورو ٹاکسنز کے تجربات کا الزام، عالمی برادری سے تحقیقات کا مطالبہ
مظفرآباد: چیف آرگنائزر تحریک جوانان کشمیر ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے بھارتی فورسز کے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیمیائی، ریڈیائی شعاعوں یا نیورو ٹاکسنز کے تجربات کے بارے میں سوال اٹھایا ہے کہ کیا یہ تجربات صرف مسلمانوں پر ہی کیے جا رہے ہیں؟ ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے بین الاقوامی اداروں سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
راجوری میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حالیہ پراسرار ہلاکتوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے بھارتی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک نئی چال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ راجوری میں لوگوں کی ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں مردہ پائے جانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کو منظم منصوبہ بندی کے تحت موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتنی بڑی تعداد میں اچانک اموات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا بھارتی افواج نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیمیائی، ریڈیائی شعاعوں یا نیورو ٹاکسنز کا استعمال شروع کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران راجوری اور دیگر علاقوں میں صرف مسلمانوں کی اموات نے مسلمانوں کی نسل کشی کے خدشات کو تقویت دی ہے، تاکہ ان علاقوں سے مسلم آبادیوں کے انخلاء کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان اقدامات کا مقصد مسلم آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا ہو سکتا ہے، تاکہ وہ اپنے گھروں سے بھاگ جائیں اور وہاں غیر کشمیری ہندوؤں کو آباد کر کے ڈیموگرافی کو تبدیل کیا جا سکے۔ ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی حکومت کے اس منصوبے کی بروقت تحقیقات کرے اور اس کے مظالم کو بے نقاب کرے تاکہ کشمیری عوام کو اس کے ظلم و ستم سے بچایا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں