وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کے ظلم و ستم اور ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا تو آزاد کشمیر کی عوام خونی لکیر کو پار کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی تحریک حق خود ارادیت کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے اور یہ تحریک اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

چوہدری انوارالحق نے پاکستان کی سیاسی قیادت اور مسلح افواج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کو 70 سالوں سے جو حمایت فراہم کی ہے، وہ قابل قدر ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ نہ صرف آبادی اور رقبے کا نمائندہ ہے بلکہ تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) آزاد جموںو کشمیر شاہ غلا م قادر کی زیر صدارت مرکزی عہدیداران اور ٹکٹ ہولڈرز کا اہم اجلاس

وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں شہری آزادیاں اور سہولتیں پاکستان کے عوام کی مدد سے ممکن ہوئی ہیں، اور پاکستان کی عوام نے اپنے وسائل کو کشمیری بھائیوں کے لیے وقف کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی کو چیلنج کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عالمی مبصرین کو جانے کی اجازت دیں تاکہ دنیا کو آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں فرق کا علم ہو سکے۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے اقدامات کی مذمت کی اور کہا کہ بھارتی وزیر دفاع نے ان کی ذات پر جو حملے کیے، وہ بے بنیاد اور بزدلانہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت عوام کے منتخب نمائندوں کی ہے اور یہاں کسی کٹھ پتلی حکومت کا وجود نہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران آزاد کشمیر کی اقتصادی ترقی پر بھی زور دیا اور کہا کہ سستی بجلی روزگار کے لیے اہم ہے، اور آزاد کشمیر میں بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ انہوں نے ان منصوبوں کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

چوہدری انوارالحق نے آخر میں کہا کہ ان کا مقصد عوام کی خدمت ہے اور وہ عوامی وسائل کو عوام پر خرچ کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے