2 مطالبات پر عملدرآمد ہوگا تو حکومت سے بات آگے بڑھے گی: شوکت یوسفزئی

پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ ہم اپنے 2 مطالبات سے پیچھےنہیں ہٹیں گے، حکومت کے پاس مذاکرات کے لیے 30 جنوری تک کا وقت ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے اپنا ایجنڈا فائنل کرلیا ہے، تمام گرفتارکارکنوں کی رہا ئی، 9 مئی اور 26 نومبر کےواقعات پر جوڈیشل کمیشن بنانے کے 2 مطالبات ہیں، ہمارے دو نکات پر عملدرآمد ہوگا تب بات چیت آگے بڑھ سکےگی، ان دو مطالبات پر پی ٹی آئی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں : سانحۂ 9 مئی کے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کرنے کا اعلان

انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کی طرف سےسول نافرمانی کی تحریک برقرار ہے، حکومتی کمیٹی کارویہ سنجیدہ رہا، مطالبات پرعملدرآمد ہوا تو تحریک کی واپسی پر بات ہو سکتی ہے لیکن اگر حکومت نے دو نکات پر لچک نہ دکھائی تو سول نافرمانی کی تحریک جاری رہےگی۔

شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس 30 جنوری تک کا وقت ہے، تحریک انصاف احتجاج کے لیے اپنا لائحہ عمل بنائےگی۔ واضح رہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان گزشتہ ماہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور آج ہو گا جس میں پی ٹی آئی اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے گی۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے