وزیر پیٹرولیم نے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں ڈال دی

وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے توانائی کے شعبے میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں ڈال دی اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عمدرآمد رکوانے کیلئے متحرک ہو گئے۔

مشترکہ مفادات کونسل نےملک میں پیدا ہونے والی گیس کی پالیسی میں ترمیم کی تھی ۔تیل وگیس کی کمپنیوں نے نئی پالیسی کے تحت 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے پر عمل نہ ہوا تو 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں ہو گی۔ترمیمی پالیسی کے تحت 35 فیصد گیس پرائیویٹ سیکٹر کو فروخت کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔مشترکہ مفادات کونسل نے ٹائٹ گیس پالیسی کی بھی منظوری دی تھی ۔

وفاقی وزیرمصدق ملک کی ہدایت پر ڈائریکٹرجنرل پٹرولیم کنسیشن کاشف علی کو عہدے سے ہٹادیاگیا ۔ذرائع کے مطابق  ٹائٹ گیس پالیسی اور 35 فیصد گیس تھرڈ پارٹی کو فروخت کی اجازت نہ رکوانے پر ڈی جی پی سی کو عہدے سے ہٹاکراورجونیئرافسر ریاض علی کو ڈائریکٹرجنرل پٹرولیم کنسیشن تعینات کیا گیا۔ڈی جی پی سی کاشف علی نے گزشتہ تین سال میں بہترین خدمات سرانجام دیتے ہوئے تیل وگیس کی پیداوار میں اضافہ کروایا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے