پاکستان کا قانونی نظام بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہے،ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان کا قانونی نظام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو عدالتی نظرثانی کے طریقہ کار کے ذریعے موثر طریقے سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اس کا مقصد شہریوں کے حقوق کی ضمانت دینا اور انہیں غیر قانونی یا غیر آئینی فیصلوں سے بچانا ہے۔

پاکستان کا آئین اور قانونی نظام عدلیہ کو مکمل خودمختاری فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس عدالتی نظرثانی کے طریقہ کار کے ذریعے کسی بھی فیصلے کو چیلنج کرسکتی ہیں۔ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کا بھی یہی اصول ہے، جو پاکستان کی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قوانین اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق ہوتے ہیں۔

پاکستان اپنے آئین اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان جمہوریت، انسانی حقوق، اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تعمیری مکالمے کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں جیسے کہ ایس پی پلس اسکیم اور دیگر معاہدوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا عہد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا، امریکی پابندیوں کا کوئی جواز نہیں : شہباز شریف

پاکستان اپنے انسانی حقوق کے معیارات کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ یورپی یونین سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان معیارات کو نافذ کرنے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کو کسی بھی امتیاز یا دہری پالیسیوں کے بغیر نافذ کرنے کے لیے اپنے عالمی شراکت داروں سے تعاون برقرار رکھے گا۔

پاکستان کا قانونی نظام عدلیہ کے ذریعے حقوق کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ یہ ملک عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے