جیل میں تربیت اچھی ہوتی ہے،یہ وزیراعظم کے عہدے کا حصہ ہے، شاہد خاقان عباسی

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جیل میں تربیت اچھی ہوتی ہے،یہ وزیراعظم کے عہدے کا حصہ ہے۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کیسز اب تک موجود ہیں، امیر آدمی نہیں سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف 35 سال میرے لیڈر رہے،ووٹ کو عزت دو کے نظریہ سے ن لیگ پیچھے ہٹی تو کہا ساتھ نہیں چل سکتا۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اضافی صوبے بننے چاہیے،صوبے بننے سے مسائل کم ہونگے،ساوتھ پنجاب اور بہاولپور صوبہ پر سب کا اتفاق ہوا مگر عملدرآمد نہ ہوا،ہماری جماعت اضافی صوبے بننے کی قائل ہےتاہم نئے صوبے لسانی بنیادوں کے بغیر بننے چاہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ستارے حرکت میں آگئے، عمران خان جلد رہا ہوں گے: عارف علوی

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات پارلیمان کے فلور پر ہوتے ہیں، کسی کو نہیں معلوم کیا مذاکرات کرنے ہیں، ہر سیاسی جماعت اس وقت کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے