اسرائیل کے غزہ پر حملے جنگ نہیں ظلم ہے، پاپ فرانسس
ویٹیکن کے سربراہ پوپ فرانسس نے غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا غزہ پر اسرائیلی حملے فلسطینی عوام کی نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں ۔
اسرائیلی وزیر نے پوپ کی اس تجویز پر تنقید کی تھی ۔کیتھولک کارڈینلز سے اپنے سالانہ کرسمس خطاب میں پوپ فرانسس نے غزہ میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کا حوالہ دیا، جن میں کم از کم 25 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل بچوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ جنگ نہیں ظلم ہے ۔1.4 ارب مسیحیوں کے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ کے طور پر پوپ عام طور پر تنازعات میں غیر جانبدار رہتے ہیں ، لیکن حالیہ دنوں میں وہ حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم کے بارے میں زیادہ کھل کر بات کر رہے ہیں۔پوپ فرانسس نے یہ بھی بتایا کہ یروشلم کے کیتھولک بشپ نے جمعہ کو غزہ جانے کی کوشش کی تھی تاکہ وہاں موجود کیتھولک افراد سے ملاقات کریں، لیکن انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:یوکرین جنگ کا خاتمہ :صدر پیوٹن نومنتخب امریکی صدرکیساتھ مذاکرات کے لئے تیار
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں اور لیکن غزہ کے جنگجو گنجان آبادی والے علاقوں میں چھپے ہوتے ہیں، فلسطینی صحت حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں عام شہریوں کی ہیں، جن میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں