پاکستانی میزائل امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں: امریکی نائب قومی سلامتی مشیر

امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا ہے کہ پاکستان ایسے میزائل بنا رہا ہے جو جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں امریکا کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی جان فائنر نےکہا کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے جو اسے جنوبی ایشیا سے باہر کے اہداف بشمول امریکا کو بھی نشانہ بنانے کے قابل بناسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی اقدامات اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے مقاصد کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ اگر کھل کر بات کی جائے تو پاکستان کے اقدامات کو امریکا کے لیے ایک ابھرتے ہوئے خطرے کے سوا کچھ اور سمجھنا مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بیلسٹک میزائل سسٹمز سے لے کر ایسی میزائل ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو اسے بڑے راکٹ موٹرز کے تجربات کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ اگر یہ جاری رہا تو پاکستان کے پاس جنوبی ایشیا سے بہت آگے امریکا تک اہداف کو نشانہ بنانےکی صلاحیت ہوگی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس کانفرنس میں کہا ہےکہ امریکا عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھنےکے لیے پرعزم ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کا اہم شراکت دار ہے، پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق تحفظات واضح ہیں، لانگ رینج بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت سے انکار دیرینہ پالیسی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے