یورپ میں کار ساز اداروں کو سخت قوانین کا سامنا

یکم جنوری سے یورپی یونین کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے سخت قوانین لاگو کر رہی ہے۔

ان قوانین کے تحت زیادہ تر کمپنیوں کو بھاری جرمانے سے بچنے کے لیے اپنی گاڑیوں کی فروخت کا کم از کم پانچواں حصہ برقی گاڑیوں (ای وی) پر منتقل کرنا ہوگا۔حالیہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک خطے میں گاڑیوں کی فروخت کا صرف 13 فیصد ای وی گاڑیاں ہیں ۔ یورپ میں کار ساز کمپنیوں کو گاڑیوں کی کم فروخت اور چینی کم قیمت ای وی گاڑیوں کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں کرنسی نوٹوں سے شیخ مجیب کی تصویر ہٹانے کا فیصلہ

فروخت میں کمی اور چینی کمپنیوں کے بڑھتے اثر و رسوخ کی وجہ سے ووکس ویگن اور اسٹیلانٹیس جیسی بڑی کمپنیوں نے کچھ مہینوں میں منافع میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کار ساز کمپنیوں کو اب زیادہ ای وی فروخت کرنی ہوں گی، جب کہ صارفین سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال اور برقی گاڑیوں پر سبسڈی میں کمی کے باعث خریداری مؤخر کر رہے ہیں۔یورپ میں سخت قوانین کے نفاذ میں محض چند ہفتے باقی ہیں، جس پر سیاستدانوں نے برسلز پر زور دیا ہے کہ وہ ان اہداف پر نظر ثانی کرے۔ یورپی آٹوموبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین لوکا ڈی میو کا کہنا ہے کہ کار ساز ادارے جرمانے سے بچنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جو 15.76 بلین ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

ووکس ویگن، اسٹیلانٹیس اور رینالٹ نے پچھلے دو مہینوں میں پیٹرول انجن گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے تاکہ ای وی گاڑیوں کی فروخت بڑھائی جا سکے۔ یورپی کار ساز ادارے کے قریبی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ یہ حکمت عملی الٹی بھی پڑ سکتی ہے۔

ان کے مطابق پیٹرول گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے برقی گاڑیوں کی مہنگی قیمتوں کے فرق کو کم کرنے میں مدد ملے گی لیکن کمزور مارکیٹ نمو کے باعث یہ برقی گاڑیوں کی مطلوبہ فروخت حاصل کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے