یورپ میں خاندانی جزیرے

جرمنی میں خاندان کا نظام مضبوط ہے اس کی ایک وجہ تو وہ قانونی تحفظ ہے جو خاندان میں بزرگوں کی مدد اور خدمت کرنے کے حوالے سے آئین میں موجود ہے اور دوسری وجہ وہ فوائد و سہولیات ہیں جو بچوں کی پرورش اور خاندان کی دیکھ بھال کے عوض حاصل ہوتی ہیں، وہاں شادی کرنے والوں، دوسرں پر معاشی انحصاررکھنے والوں اور بچوں کی نگہداشت کرنے والوں کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے۔  

 
ایسی مائیں جو گھر کا کاروبار چلاتی ہیں ان کے لئے پنشن کی سہولیات ہیں اور انہیں تین سال سے زیادہ عرصہ تک کسی صورت میں بھی ملازمت سے برطرف نہیں رکھا جاسکتا۔ باپ کی معاشی حالت کمزور ہونے کی صورت میں حکومت کی طرف سے بچوں کی پرورش میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بغیر شادی کے ماں بننے کی شرح کل ماؤں کی 15فیصد ہے جو کہ یورپی ممالک سے بہت کم ہے جبکہ شادیوں کی شرح زیادہ ہے اور طلاق کی کم۔ یک ولدی خاندان کی روایت بھی کم ہے اور ورکنگ خواتین بھی دیگر ممالک سے بہت کم تعداد میں ہیں۔

امریکہ میں خاندان اورخاندانی اقدارکا واویلہ تو خوب ہے مگر عملی میدان میں امریکی معاشرہ خاندانوں کی سوتیلی ماں کا کردار ادا کررہا ہے۔ شادی شدہ جوڑوں کو زیادہ ٹیکس اداکرنا پڑتا ہے۔ البتہ شادی کا بونس ملتا ہے مگر کئی شرائط کے ساتھ۔ طلاق لینا اور دینا آسان ہے۔ بچوں کے لئے سہولیات کم ہیں۔ حکومت کی طرف سے بالغوں پر بچوں کی نسبت چارگنا زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ غربت کے خاتمے کے لئے کئے گئے اقدامات نے بھی خاندانوں کو مزید معاشی تناؤکا شکارکردیا ہے۔اب عورت کو آمدنی میں مدد اس وقت تک نہیں ملتی جب تک اس کے گھر میں ایک مرد موجود نہ ہو۔ ویلفئر چیک، جس پر خوراک اور صحت کی سہولتوں کی مہر بھی ہوتی ہے، زیادہ اہمیت رکھتا ہے بہ نسبت ایسے باپ اور خاوند کے جس کی آمدنی کم ہو۔سویڈن کے لوگ انفرادیت پسند ہیں، یعنی فرد، فرد ہوکر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہاں شادی شدہ جوڑے کو کوئی الاؤنس نہیں ملتا نہ کوئی انکم ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے۔

شہریوں کو سہولیات و فوائد بھی انفرادی بنیادوں پر حاصل ہوتے ہیں۔ البتہ بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لئے سہولیات دی گئی ہیں۔ مثلاً ماؤں کو بچوں کی پیدائش کے حوالے سے رخصت ، ڈے کئیر سنٹرزمیں رعایتی نرخ، اور بیمار بچوں کی دیکھ بھال کے لئے رخصت کے ساتھ ساتھ اس قسم کی دیگر سہولیات بھی میسر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں کسی ملک کی عورتیں اگر زیادہ بچے رکھتی ہیں تو وہ سویڈش مائیں ہیں۔سویڈن میں ورکنگ خواتین کا تناسب کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے کیونکہ حکومتی سطح پر ستر کی دہائی میں ایک باقاعدہ پالیسی کے تحت عورتوں کو کام پر لگایاگیا۔ وہاں ہرر ایک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ملازمت کرے۔ کمسن بچوں کی مائیں جزوقتی ملازمت کرتی ہیں۔

برطانیہ میں خاندانی زندگی جرمنی اور سویڈش اقدار کے امتزاج کی آئینہ دار ہے۔ ٹیکس کا نظام تو خاندانی زندگی اور بچوں کی پرورش کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔

خاص طور پر ایسے کنبوں کی جن میں خاوند باہر کام کرے اور خاتون گھر کی ذمہ داریاں سنبھالے۔ تاہم 1960ء کے بعد ، برطانیہ میں خصوصاً ایسے نظام کی طرف پیش قدمی ہوئی جس میں بالغ افراد پر ٹیکس ان کی انفرادی حیثیت میں لاگو ہوتا ہے نا کہ بطور فیملی ممبر کے۔ اب ایک بالغ فرد اکیلا رہتے ہوئے 25فیصد کم ٹیکس ادا کرتا ہے بہ نسبت شادی شدہ کے یا اکٹھے رہنے والے مردو عورت سے (جو اگر بچے بھی رکھتے ہوں تو انہیں گھر ملنے میں ترجیح حاصل ہوتی ہے)۔ بچوں والے جوڑوں کے لئے ٹیکس ادا کرنے کی شرح زیادہ ہے جبکہ بغیر بچوں کے رہنے والوں کو کم ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے