جیسن گلیسپی پاکستانی ٹیم کی کوچنگ سے مستعفی ہونے کی وجوہات سامنے لے آئے

پاکستان ریڈ بال ٹیم کے سابق کوچ جیسن گلیسپی نے مستعفی ہونے کی وجوہات بتا دیں۔ آسٹریلین میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جیسن گلیسپی نے کہا کہ میرے بطور ہیڈ کوچ ٹیم سلیکشن میں اختیارات ختم کردیے گئے تھے، میری ڈیوٹی میدان میں کھلاڑیوں کو کیچنگ پریکٹس کرانا باقی رہ گئی تھی۔

ہائی پرفارمنس کوچ ٹم نیلسن کے معاملے پر بے خبری ناراضی کا سبب بنی، ٹم نیلسن کو نہ رکھنے کے فیصلے سے مجھے مکمل بے خبر رکھا گیا۔ ہائی پرفارمنس کوچ ٹم نیلسن کے معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹم نیلسن کو تمام کھلاڑی گرینڈپا یعنی دادا کرکے بلاتے تھے، ماضی کے چند واقعات کے بعد اس معاملے نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ میری ضرورت ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پیرس اولمپکس 2024ء کے گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی نظریں اب ورلڈ ریکارڈ پر

ان کا کہنا تھا کہ میرا پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کا جو مقصد تھا وہ فوت ہوتا جا رہا تھا، کسی بھی ہیڈ کوچ کا سلیکٹرز سمیت ہر کسی سے رابطہ ضروری ہوتا ہے، پلاننگ کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم ایک روز پہلے تو مجھے اسکواڈ کے بارے میں بتایا جائے۔

گلسپی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد گروپ پر ایک ٹیکسٹ میسج سے نئی سلیکشن کمیٹی کی خبر ملی، سلیکشن کمیٹی کے معاملے پر بھی مجھ سے کوئی بات نہیں کی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے ڈراپ کرنے کا فیصلہ نئی سلیکشن کمیٹی کا تھا، انہوں نے کہا کہ کپتان شان مسعود کے ساتھ بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ بن گئی تھی۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے