جنوبی کوریا میں مارشل لالگانےوالے صدر کا مواخذہ

مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی تحریک بھاری اکثریت سے منظور ہو گئی ۔ تحریک کے حق میں 204 ارکان پارلیمنٹ نے ووٹ دیا۔ مخالفت میں 85 ووٹ آئے۔ تین ارکان نے کسی کے حق میں ووٹ نہ ڈالا اور 8 ووٹ مسترد کیے گئے۔ ووٹنگ میں تمام 3 سو ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔

 

وزیر اعظم ہان ڈَکسو جنوبی کوریا کے عبوری صدر ہوں گے۔ تحریک منظور ہونے پر صدر یول کو صدارتی فرائض سے معطل کر دیا گیا۔ عدالت یون سک یول کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ صدر یول کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی عدالت کی نو رکنی کونسل میں سے چھ کو مواخذے کو برقرار رکھنے کے حق میں ووٹ دینا ہوگا۔ عدالت کے مواخذے کے حق میں فیصلے کی صورت میں فیصلے کے 60 روز کے اندر صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو گا۔

مواخذے کی تحریک کامیاب ہونے پر جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سمیت مختلف شہروں میں جشن منایا گیا ۔ صدر نے 3 دسمبر کو رات گئے صدر یول کی جانب سے مارشل لا لگایا گیا تھا۔ اپوزیشن اور عوام کی بھرپور مزاحمت کے باعث صدر اعلان کے 6 گھنٹے بعد ہی مارشل لا کا فیصلہ واپس لینے پر مجبور ہوئے۔ صدر یول کے خلاف 7 دسمبر کو بھی مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری ، 33افراد شہید

تاہم حکمران جماعت کے حصہ نہ لینے کے باعث تحریک ناکام ہوئی تھی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے