شام سے 4000 ایرانی شہریوں کا انخلا

ایرانی حکومت کی ترجمان نے تصدیق کی کہ شام سے اب تک 4,000 ایرانی شہریوں کو نکالا جا چکا ہے۔ ایرانی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بتایا کہ باقی ایرانی شہریوں کو بھی نکالنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں ۔ 

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شام کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور یہ فیصلہ شامی عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کریں۔ایران اور روس نے 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے دوران بشار الاسد کی حکومت کو عسکری اور فضائی مدد فراہم کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی فورسز کا شام پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ، فوجی تنصیبات اور ہوائی اڈے تباہ

تہران نے اپنی پاسدارانِ انقلاب کی فورسز کو شام میں تعینات کیا تاکہ خطے میں اسرائیل اور امریکی اثر و رسوخ کے خلاف ایران کی پوزیشن کو مضبوط رکھا جا سکے۔

بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے سے ایران کی خطے میں طاقت کا مظاہرہ کرنے اور اپنی ملیشیا گروپس کے نیٹ ورک کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے