حکومت کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی جو ملکی معیشت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہا ہو: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی جو ملکی معیشت کو سبوتاڑ کرنے کی سازش کر رہا ہو۔
وزیرِ اعظم نے اسلام آباد میں حالیہ ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ اس بات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ ان کارروائیوں کے دوران بے گناہ اور معصوم شہریوں کو گرفتار نہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:مدارس رجسٹریشن بل :
حکومت کا مولانا فضل الرحمن کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ
وزیرِ اعظم نے انتشار پھیلانے والوں کی نشاندہی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے لئے تمام اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ، فساد پھیلانے والوں کے خلاف قائم ٹاسک فورس کو ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔
وزیرِ اعظم نے وفاقی پراسیکیوشن سروس کو وزارت قانون کے تحت لانے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے اسلام آباد جیل کی تعمیر کو جلد مکمل کرنے اور اس کے لئے فنڈز فوری طور پر جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد سیف سٹی کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے اور سیف سٹی کیمروں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد جیل کی عمارت اگلے سال مارچ تک مکمل کر لی جائے گی۔
اس اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناؤاللہ، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں