پاکستان سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے مالیاتی تعلقات
پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو سہارا دینے میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور پڑوسی ملک چین کے ساتھ مالیاتی تعلقات کی اہمیت انتہائی نمایاں ہے۔ یہ تعلقات قلیل مدتی قرضوں، سیف ڈپازٹس، موخر ادائیگی پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور سرمایہ کاری پر مشتمل ہیں۔ ان ممالک کے ساتھ مالی تعاون پاکستان کے لیے معاشی بحرانوں سے نکلنے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوگا خاص طور پر سعودی عرب کا کردار ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ مدد فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد مشترکہ مذہبی، ثقافتی، اور تاریخی روابط پرمشتمل ہیں۔ 1970 کی دہائی میں جب پاکستان نے اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے سعودی عرب سے مدد طلب کی تو سعودی عرب نے ہمیشہ فوری ردعمل دے کر پاکستان کی مدد کی۔ 2001 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور 2018-19 میں مالی بحران کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو قرض اور پیٹرولیم مصنوعات کی صورت میں وسیع مالیاتی معاونت فراہم کی۔چین کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد سی پیک منصوبے پر مضمر ہے، جو 2013 میں شروع ہوا۔ اس منصوبے نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ڈیپازٹس فراہم کیے ہیں جو کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے سازگار ہونگے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا سبب بنیں گے ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد مشترکہ مذہبی، ثقافتی، اور تاریخی روابط پرمشتمل ہیں۔ 1970 کی دہائی میں جب پاکستان نے اپنی معیشت کو استحکام دینے کے لیے سعودی عرب سے مدد طلب کی تو سعودی عرب نے ہمیشہ فوری ردعمل دے کر پاکستان کی مدد کی۔ 2001 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ اور 2018-19 میں مالی بحران کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کو قرض اور پیٹرولیم مصنوعات کی صورت میں وسیع مالیاتی معاونت فراہم کی۔چین کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد سی پیک منصوبے پر مضمر ہے، جو 2013 میں شروع ہوا۔ اس منصوبے نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کے لیے ڈیپازٹس فراہم کیے ہیں جو کہ پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے سازگار ہونگے اور ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کا سبب بنیں گے ۔
سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مالی تعلقات پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے موخر ادائیگی پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قرضوں کا رول اوور پاکستانی معیشت کے لیے نہایت مددگار ثابت ہوگا۔تاہم ان تعلقات پر مکمل انحصار پاکستان کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ بار بار قرضوں کے رول اوور اور مختصر مدتی مالیاتی پالیسیوں سے پاکستان کی معیشت کی خودمختاری متاثر ہوگی۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ مشروط مالیاتی معاہدے اکثر پاکستان کی مالیاتی آزادی کو محدود کرنے کا سبب بنیں گے۔
پاکستان کو قلیل مدتی مالیاتی حل سے نکل کر طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ خود انحصاری کی بنیاد پر معاشی اصلاحات کا نفاذ ضروری ہے تاکہ بیرونی امداد پر انحصار کم ہو۔پاکستان کو سعودی عرب اور چین کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک سے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے چاہئیں تاکہ معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔برآمدات کے شعبے میں ترقی کے ذریعے پاکستان کو زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
چین اور سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ تحقیقی منصوبوں اور تکنیکی ترقی کے معاہدوں کے ذریعے پاکستان اپنی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کر سکتا ہے۔مالیاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں سیاسی استحکام ضروری ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مالیاتی تعلقات قابل تعریف ہیں اور ان کی مضبوطی دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی بنیاد ہے۔ تاہم پاکستان کو بیرونی امداد پر انحصار کم کرنے اور اپنے وسائل کو بہتر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشی خود مختاری حاصل کی جا سکے۔ مستقبل میں اگر پاکستان اقتصادی ترقی کے لیے پائیدار حکمت عملیوں پر عمل کرے گا تو ان تعلقات سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں