خاندان بنانے کا تکلف کیوں کریں

سرمایہ دارانہ  جمہوری معاشروں میں خاندان بنا کے رہنے کا رحجان کم ہوتا جارہا ہے، بچوں کی تربیت اور معاشی  ذمہ داری کا بوجھ نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے، جو خوشحال ہے وہ ذمہ داری کیوں اٹھائے اور جو غریب ہے وہ خاندان کا تکلف افورڈ کیسے کرے۔
امیر ممالک میں زیادہ تر، بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح اور بکھرتے ہوئے خاندانوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کے لئے سرگرمیوں کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر ان کا معاشی مستقبل اور کیرئیر جو کہ مرد سے آزاد رہ کر زیادہ چمکدار معلوم ہوتا ،خاندان کے بندھن سے آزاد ہونے پر اکساتا ہے۔ امریکی اداروں کی تحقیق کے مطابق مردوں کی معاشی حالت میں بہتری سے ان میں خاندان کے ساتھ رہنے کے رجحانات بڑھ جاتے ہیں۔ جبکہ عورتوں کو حکومت کی طرف سے زیادہ لالچ نظرآئے تو وہ خاوند سے پیچھا چھڑانے میں عافیت محسوس کرتی ہیں۔
اسی طرح مردوں میں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا ہے جو بچوں کی پرورش اور ان کی معاشی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری ادا کرنے سے دور بھاگتا ہے۔ طلاق کے آسان قانون نے انسانی آزادی کی آڑ میں بڑا خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ یہ تصور عام ہوا ہے کہ مذہب یا ریاست خاندانی نظام اختیارکرنے پرکسی فرد کو اس کی مرضی کے خلاف پابند نہیں کرسکتے اورحکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے تیار کردہ اخلاقی اوصاف شہریوں پر لاگو کرتی پھرے۔
جب خاندان ٹوٹتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خاوند کا میعارِ زندگی اکیلا ہوجانے کی وجہ سے بہتر ہوجاتا ہے جبکہ ماں اور بچوں کی معاشی حالت ناگفتہ بہ ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ ”فلاحی مملکت” کی معاشی بیساکھیوں کے سہارے زندگی گزارنا شروع کرتے ہیں اور خاوند کسی اورکو اسی طرح کی سماجی کمزوری میں مبتلا کرنے کی راہ لیتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شادی کا خاندانی پہلو ”افورڈ” نہیں کرسکتا۔ آمدنی کی کمی اور ٹیکس کی زیادہ شرح کے ساتھ ،مواقع روزگار کی عدم دستیابی کی وجہ سے، خود انحصار ی کی منزل دور دور تک نظر نہیں آتی۔ وہ تو بمشکل خود اس قابل ہوا کہ نشوونما پاکر اپنا آپ سنبھالے اور بقا کی جنگ لڑے، کجا کہ اوروں کا معاشی بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے پھرے۔خاص طور پر ایسی ریاستوں میں جہاں ماں بن کر تو گزارہ ہوسکتا ہے ،فلاحی فنڈز کی بدولت (جو بچوں کی وجہ سے مل جاتے ہیں) مگر باپ بن کر گھر چلانا مشکل ہوجاتا ہے، معاشی ذمہ داریوں کی بدولت۔
حقیقت تو یہ ہے کہ فلاحی مملکت کی امدادی سرگرمیاں خود یک ولدیتی خاندان پیدا کررہی ہیں اور مشترکہ خاندانی نظام کے خاتمے کی راہ پر گامزن ہیں۔ کیونکہ اس طرح سے باپ کو فرار کی راہ دکھائی جاتی ہے اور ماں کو خاندان سے نکالنے اور ایک مرد سے چھٹکارا دلانے کے لئے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔
        تیس سال پہلے کی نسبت اب ماؤں کے لئے مرد کے بغیر، بچوں کی پرورش کا کام، معاشی اعتبار سے آسان ہوگیا ہے۔ جبکہ باپ کو ذمہ داریوں کے بوجھ سے جان چھڑانا آسان لگتا ہے۔دنیا میں جتنی تعداد میں بغیر خاوندوں کے مائیں موجود ہیں تقریباً اتنے ہی خاوند بغیر بیویوں کے باپ کے روپ میں موجود ہیں۔ اور بچوں کی غربت کی ذمہ داری بہت حد تک ایسے باپوں پر ہے جو خاندان بننے کے ذمہ دار تو ہیں مگر خاندان سے منفی اور غائب ہیں۔
بہرحال کم آمدنی بھی ترک خاندان کی ایک بڑی وجہ ہے جو کہ خاندان بنانے اور اس کو نبھانےکے رجحان کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ چند سال پہلے ایک برطانوی ادارے نے سروے کیا جس کے مطابق برطانیہ کے کم پڑھے لکھے لوگ اس اصول کے قائل تھے کہ خاوند کا کام معاشی وسائل کا بندوبست کرنا ہے جبکہ بیوی کی ذمہ داری گھریلو کام کاج ہے۔ مگر بدقسمتی سے ایسے افراد کو آمدن بڑھانے کے زیادہ وسائل میسر نہ آسکے اور انہیں غربت سے دوچار ہونا پڑا۔لہٰذا، انہیں اب پہلی رائے سے رجوع کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ اصول کہ ایک کمائے اور سب کھائیں کے اصول کی جگہ اس فکر نے لے لی ہے کہ سب تب کھا سکیں گے جب سب کمائے بھی تو!

 

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے