دوسری جنگ عظیم میں فوجیوں کا قتل عام، سینیگال کا ایک بار پھر فرانس سے معافی کا مطالبہ
دوسری جنگ عظیم کے دوران فرانس کے لیے لڑنے والے سینیگالی فوجیوں کے قتلِ عام کی 80ویں برسی کے موقع پر سینیگال نے ایک بار پھر اپنے سابق نوآبادیاتی حکمران سے اس کی ذمہ داری قبول کرنے، معافی مانگنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ 1944 میں دارالحکومت ڈاکار کے قریب تھیاروئے کے گاؤں میں پیش آیا تھا۔تھیاروئے فرانس کے لیے جنگ لڑنے کے بعد منصفانہ معاوضے اور بہتر سلوک کا مطالبہ کرنے پر فرانسیسی فوج نے سینیگال کے فوجیوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔

اس قتلِ عام کی تعداد پر اختلاف موجود ہے، تاہم مورخین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔فرانس کے سابق صدر فرانسوا اولاند نے 2014 میں تھیاروئے کے دورے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 70 بتائی تھی، جو پہلے 35 سمجھی جاتی تھی۔

اس سال کی تقریب میں فرانس کے وزیر خارجہ اور دیگر افریقی سربراہانِ مملکت نے شرکت کی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے چند دن قبل سینیگالی صدر بسیرو دیومائے فائے کو ایک کھلا خط لکھا، جس میں انہوں نے پہلی بار ان ہلاکتوں کو قتلِ عام قرار دیا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں