ہومینائیڈ روبوٹس کی دنیا میں انقلاب کیلیے تیار

ہومینائیڈ روبوٹس کی مارکیٹ میں آنے والے سالوں میں زبردست اضافہ متوقع ہے ۔ مختلف کمپنیاں ایسے اینڈروائیڈ روبوٹس تیار کرنے کی دوڑ میں مصروف ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی میں شامل ہو سکیں۔ حال ہی میں فرانس کے شہر نینسی میں منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس آن ہومینائیڈ روبوٹکس میں 30 سے زائد کمپنیوں اور تحقیقی اداروں نے اپنے جدید ترین روبوٹس کی نمائش کی۔
یونیورسٹی آف لورین کے انریا سینٹر کی ڈائریکٹر آف ریسرچ سرینا ایوالدی نے بتایا کہ ایکٹوایشن اور میکاٹرانکس کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، جس کے نتیجے میں روبوٹس مزید مضبوط، مؤثر اور کارآمد ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انجینئرنگ کی لاگت میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں اسٹارٹ اپس کی جانب سے زیادہ مشینیں تیار کی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز میں ملک کی پہلی مکمل الیکٹرک کار متعارف
مصنوعی ذہانت اور انجینئرنگ کے امتزاج نے اس میدان کو مزید وسعت دی ہے۔ انجینئر روبوٹس کو انسانی جسم اور حرکات کی نقل کے لیے ڈیزائن کرتے ہیں، جبکہ اے آئی انہیں دماغی صلاحیت فراہم کرتی ہے ، جس سے یہ روبوٹس اپنے ماحول سے سیکھنے ، فیصلے کرنے اور پیچیدہ کام انجام دینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔


یہ پیشرفت صحت کے شعبے سے لے کر آفات سے نمٹنے تک متعدد صنعتوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ تاہم، اطالوی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی پروفیسر اگنیزکا ویکوسکا نے خبردار کیا کہ روبوٹس کی مکمل خودمختاری اور پیچیدہ ماحول میں انسانی جیسی ذہانت کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس کے باوجود مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا، ایمیزون اور اینویڈیا جیسی بڑی ٹیک کمپنیاں آرٹیفشل ٹیکنالوجی کو اپنانے کیلیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ 2024 کے اختتام تک امریکا ، یورپ اور اسرائیل میں اے آئی اور کلاؤڈ کمپنیوں کو 79.2 ارب ڈالر کی فنڈنگ ملنے کا امکان ہے۔


ایلون مسک نے اکتوبر 2024 میں پیشگوئی کی تھی کہ 2040 تک کم از کم دس ارب ہومینائیڈ روبوٹس دستیاب ہوں گے، جن کی قیمت 20,000 سے 25,000 ڈالر کے درمیان ہوگی۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے