پاکستان میں وی پی این کے استعمال اور قواعد و ضوابط

پاکستان میں وی پی این کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بند کیا جارہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین ریٹائرڈ میجر جنرل حفیظ الرحمن نے اپنے حالیہ بریفنگ میں اس اہم حقیقت کو اجاگر کیا کہ وی پی این (ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک) کے بغیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کا چلنا ممکن نہیں۔ یہ اعلان انٹرنیٹ کی اہمیت، بالخصوص وی پی این کے کردار کو اجاگر کرتا ہے جو آج کے دور میں معاشی، علمی، تحقیقی، سماجی، اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔
انٹرنیٹ کا آغاز 1960 کی دہائی میں ہوا جب اسے بنیادی طور پر تحقیقی اداروں کے مابین معلومات کے تبادلے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ 1990 کی دہائی میں ورلڈ وائڈ ویب کی ایجاد کے بعد انٹرنیٹ نے عوامی اور تجارتی استعمال میں ایک انقلاب برپا کیا۔ وی پی این جو ابتدا میں کاروباری اداروں کی سیکیورٹی کے لیے ایجاد کیا گیا تھا آج ایک لازمی تکنیکی ضرورت بن چکا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف انٹرنیٹ کی رازداری کو یقینی بنایا جاتا ہے بلکہ جغرافیائی پابندیوں کو بھی عبور کیا جاتا ہے۔پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جیسا کہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں آئی ٹی خدمات کی برآمداتی آمدنی میں 34.9 فیصد اضافے سے واضح ہے۔ تاہم وی پی این کی اہمیت کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کے غلط استعمال کو روکنا بھی اشد ضروری ہے۔وی پی این کے استعمال سے کئی جرائم پیشہ عناصر، دہشت گرد تنظیمیں، اور فحش مواد کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے پی ٹی اے کی جانب سے وی پی این کی رجسٹریشن کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ اقدام ہے۔وی پی این کی رجسٹریشن کے فیصلے کے عملی نفاذ میں چند اہم چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں:وی پی این کی نگرانی اور غیر قانونی استعمال کی روک تھام کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوگی۔
پی ٹی اے کو سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا چاہیے۔
وی پی این پر سخت پابندیاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو متاثر کر سکتی ہیں جو عالمی منڈی تک رسائی کے لیے اس پر انحصار کرتے ہیں۔
رجسٹریشن کے عمل کو سہل اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ کاروباری طبقے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔وی پی این کے ذریعے غیر اخلاقی مواد تک رسائی سماجی و اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
وی پی این کے استعمال کے لیے سخت اخلاقی ضوابط نافذ کیے جائیں اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلائی جائیں۔قوانین کے نفاذ میں یکسانیت اور شفافیت یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ عوام کا اعتماد حاصل ہو۔قوانین کی تشکیل میں ماہرین، صنعت کے نمائندوں، اور سول سوسائٹی کی رائے شامل کی جائے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ وی پی این کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے پی ٹی اے کا رجسٹریشن کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، بشرطیکہ اس کے نفاذ میں شفافیت اور معقولیت کو یقینی بنایا جائے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کی ترقی اور قومی معیشت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ وی پی این کے مثبت استعمال کو سہولت دی جائے اور اس کے منفی پہلوؤں کو مؤثر حکمت عملی کے ذریعے قابو میں رکھا جائے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی اور معیشت کی بہتری کے لیے حکومت اور اداروں کو ایسے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے