ریت کے گھروندے

ڈارون (Darwin:1809-1882) انگلستان کا وہ مشہور سائنسدان تھا جس نے انسان کو یک خلوی جاندار کی ارتقائی شکل قرار دیا اور اپنی تحقیق سے ثابت کردکھایا کہ انسانی زندگی، ایک ادنیٰ مظہر حیات سے، ترقی کرتی ہوئی آگے بڑھی ہے۔
 اس نقطہ نظر سے ڈارون کے پیروکاروں نے کئی ایک نئے نتائج اورنظریات ترتیب دیے اور یوں حیاتیاتی ارتقاء کے اس نظریے نے انسانی معاشرت کے تاروپود بکھیر دیے۔اس تصور کے مطابق انسان، ایک جانور قرارپاتاہے۔اپنی ضروریات پوری کرنا اور خواہشات مکمل کرنا ہر جاندار کا بنیادی وصف ہے جو کہ اس دنیا میں ایک ہمہ جہت جنگ و جدل کی صورت بپا کیے  رکھتا ہے۔
اس طرح ہر نوع ہر وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی ہے۔ جو معاشی میدان مارلیتا ہے وہی زندہ رہتا ہے(Survival of the Fittest)  اور اسے ہی زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔  کارل مارکس-1881)18 (Carl Marx: 18نے اس نقطہ نظر کے ساتھ  ہیگل (Hegel: 1770-1831) کے نظریہ کشمکش کو ملایا اور جدید اشتراکیت کی  بنیاد ڈالی۔ اس کے بقول دنیا کے سارے مسائل بھوک کی پیداوار ہیں جو ہمیشہ سے انسانوں میں طبقاتی کشمکش پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
جان سٹورٹ مل  (J. S. Mill: 1806-1873) نے عورت اور مرد کی کامل مساوات پر زور دیا جبکہ سگمنڈ فرائڈ  (Freud: 1856-1939) نے دعوی ٰ کیا کہ انسان کی ساری سرگرمیوں کا محور جنسی جبلت ہے۔ اگر نفس کو شہوت کے اظہار اور تسکین کی مکمل آزادی حاصل ہو جائے تو پھر انسان کو ذہنی سکون میسرآجائے گا۔ اسی بنیاد پر جیکسن بلیک (Jackson Blake:1840-1955)نے عورتوں کو جنسی آزادی اختیار کرنے پر اکسایا اور تھامس مین (Thomson:1875-1955) نے ہم جنس پرستی کے حق میں راہ ہموار کی۔
مغرب کے اس فلسفہ جدید نے یہ تصور انسانوںمیں عام کیا کہ انسان دراصل جانور ہے، جو فطرتاً بدی کا پتلا ہے۔ لہٰذا انسانی معاشرت کی تین بنیادیں قرارپائیں: عورت اور مرد کی ہر حوالے سے برابری   ، عورتوں کی معاشی آزادی و استقلال  اور  دونوں صنفوں کا آزادانہ میل ملاپ۔
یہ فکرو فلسفہ سمجھ میں نہیں آتا جب تک ،سید ابوالاعلیٰ مودودی   کی کتاب ”پردہ” کے یہ الفاظ نہ پڑھ لئے جائیں:
”عورت کے معاشی استقلال نے اس کو مرد سے بے نیاز کردیا ہے۔ وہ قدیم اصول کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرے، اب اس نئے قاعدہ سے بدل گیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام بازار کے سپرد کردیا جائے۔ اس انقلاب کے بعد دونوں کی زندگی میں بجز ایک شہوانی تعلق کے اور کوئی ربط ایسا باقی نہیں رہتا جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہونے پر مجبور کرتا ہو۔ اور ظاہر ہے کہ محض شہوانی خواہشات کا پورا کرنا کوئی ایسا کام نہیں جس کی خاطر مرد اور عورت لا محالہ اپنے آپ کو ایک دائمی تعلق ہی کی گرہ میں باندھنے اور ایک گھر بنا کر مشترک زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔۔۔۔خصوصا جبکہ اخلاقی مساوات کے تکمیل نے اس کی راہ سے تمام رکاوٹیں بھی ختم کردی ہوں تو وہ اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے آسان اور پر لطف اور خوشنما راستہ چھوڑ کر قربانیوں اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے لدا ہوا پرانا دقیانوسی راستہ کیوں اختیار کرے؟”
تہذیب جدید کے انسان نے پہلے تو مردوعورت کے تعلق میں کسی خارجی پابندی کے اصول کا انکار کیا۔ اپنے ہی والدین کی رضامندی کو شامل حال کرنے کے خلاف بغاوت کی۔ نکاح کو ایک سماجی معاہدے سے تعبیر کرکے اس میں کسی اخلاقی پہلو اور تقدس کے رشتے کو ماننے سے عاری ہوا۔ پھر سماجی معاہدے کو معاشی بندھنوں سے آزاد کرکے صرف حصول لذت کا ذریعہ قرار دیا ۔ اس معاملہ میں پھر محدودیت کیسی؟ لہٰذا وہ تعلق زن و شوکی بے کنار وسعتوں سے ہمکنار ہوا۔
جب اس سب کچھ کا مقصد محض حصول لذت ہی ہے تو پھر جنس مخالف پر ہی اکتفا کیوں؟ ایک جنس کے دوافراد بھی باہم لطف اندوز ہوسکتے ہیں! یہ دونوں کا بنیادی حق ہے اسے آئینی تحفظ حاصل ہونا چاہئے! اب انسانوں کے جنسی تعلق کی ایک اور جہت دریافت کرنا باقی ہے تاکہ مقدس رشتوںکا تکلف باقی نہ رہے اور وہ دن دور نہیں جب اس میں بھی کوئی کراہت نہیں رہے گی ۔ (نعوذ باللہ من ذالک)

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے