عوامی اجتماعات کے آرڈیننس نمبر ix سال 2024 کی آئینی حیثیت

آزاد کشمیر کے قانونی، صحافتی اور سیاسی، حلقوں میں کافی دنوں سے Peaceful Assembly and Public order ordinance ix of 2024 کی آئینی اور قانونی حیثیت کے بارے میں گرما گرم اور پرجوش بحث و تکرار چلی آ رہی ہے کہ یہ قانون آزاد کشمیر کے آئین کے خلاف ہونے کی وجہ سے خلاف آئین اور بدوں اختیار جاری کیا گیا ہے جو آئین میں درج بنیادی حقوق کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے – میری نظروں سے ایک خبر بھی گزری ہے جس کی رو سے عوامی مفاد کے مقدمہ کے طور پرکچھ وکلاء نے اس کو عدالت العالیہ میں چیلنج کیا ہے یا کرنے والے ہیں – اس کے عوامی اہمیت کے حامل ہونے کی وجہ سے میں نے بھی کسی دوست کے ذریعے حاصل کر کے اس کا آئین کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں مطالعہ اور جائزہ لیا – آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 41 کے تحت آزاد کشمیر حکومت کو کوئی بھی ایسا قانون صدر آزاد کشمیر کی منظوری سے بطور آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جس کے بارے میں اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہو -اس کی معیاد صرف 4 ماہ ہوتی ہے تاہم اسمبلی اس کو قرار داد کے ذریعے واپس بھی لے سکتی ہے اور چار ماہ تک اس کی مدت پھر بڑھا سکتی جس کے اندر اسمبلی میں پیش کرنا لازمی ہے وگرنہ یہ خود بخود غیر موثر ہوجاتا ہے ، تاہم غلط العام پریکٹس کے طور اس کو از سر نو بھی جاری کیا جاتا ہے جو بھی اتنی ہی مدت اور انہی اصولوں کے تحت آئینی حیثیت رکھتا ہے –

اس کے اجراء کے لئے باقی حدود وقیود کے علاوہ اس کو اسی پیمانے پہ ناپا جاتا ہے جس پر اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے ، دوسرا صرف اسی وقت جاری کیا جاسکتا ہے جب اسمبلی سیشن میں نہ ہو – تاہم ہر دو صورتوں میں اس کا آئین اور بنیادی حقوق کے تابع ہونا شرط اول ہے –

آئین کے تحت کئی شخصی ، معاشرتی اور سماجی حقوق کو بطور بنیادی حق تسلیم کر کے آئین میں شامل کیا گیا ہے جن کے استعمال کا فرد ، افراد ، سماج اور معاشرے کو حق حاصل ہے – ان کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے – ان حقوق سے کئی زیلی حقوق بھی وجود میں آئے ہیں جن کا گوکہ آئین میں ذکر نہیں لیکن عدالتی تشریحات اور ذیلی قوانین کے تحت یہ فرد اور سماج کا بنیادی حق بن گئے ہیں – مثال کے طور زندگی اور آزادی کا حق ایک جملہ میں بیان کیا گیا بنیادی حق ہے ، لیکن اگر زندگی کے لوازمات میسر نہ ہوں یا مہیا نہ کئے جائیں تو ایک فرد زندگی کے حق سے محروم سمجھا جائے گا – اسی طرح آزادی کا حق ، غلامی اور بیگار پر ممانعت، نقل و حرکت کا حق، اجتماع اور تنظیمیں بنانے کا حق ،کوئی بھی تجارت اور پیشہ اختیار کرنے کا حق ، بولنے کا حق، کوئی بھی مذہب رکھنے کا حق، جائیداد اور اس کے تحفظ کا حق، سماجی برابری اور مساوی برتاؤ کا حق ، قانون کے مطابق فئیر ٹرائل کا حق ، دوہری سزا سے ممانعت کا حق، انسانی وقار ، عزت، حرمت اور پرائویسی کا حق ، تعلیم حاصل کرنے ، زبان ،رسم الخط اور کلچر کے تحفظ کا حق ،اطلاعات تک رسائی کا حق وغیرہ چند گنے چنے بنیادی انسانی حقوق کو آئین میں بنیادی حق کی طور گارنٹی دی گئ ہے – یہ حتمی نہیں ، ان کے حاصل ہونے اور ان سے مستفید ہونے کے لوازمات کے بغیر ان حقوق کی کوئی حیثیت نہیں – مثال کے طور تعلیم کے لئے درسگاہیں ، کتابیں ، لائبریریاں ، فی زمانہ انٹرنٹ ناگزیر ہے اس کے بغیر تعلیم کا حق موجود نہیں سمجھا جائے گا – اسی طرح باقی حقوق بھی ہیں جن کے جہت درجہت درجے ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کا نا قابل تنسیخ حصہ ہیں – لیکن حقوق بھی معقول ذمہ داریوں ، وسائل اور حالات کے تابع ہیں جن کو قانون یا انتظامی احکامات کے ذریعے منظم کیا جانا آئین کا تقاضا ہے- مثال کے طور کوئی بھی سیاسی ، سماجی یا معاشرتی حق جیسے اجتماعات، تحریر و تقریر ، جلسے جلوس معقول ذمہ داریوں کے تابع ہیں – سڑکیں بند کردینا، رہائشی علاقوں میں اجتماعات کرنا وغیرہ پر امن اجتماع نہیں کہا جا سکتا اس کو منضبط کرنا ریاست کا حق اور ذمہ داری بھی ہے – جو لوگ اس کے حق میں نہیں یا خلاف ہیں ان کا بھی حق ہے کہ کسی دوسرے کے حق کے بے جا استعمال سے ان کا حق تلف نہ ہو – اس لئے حقوق و ذمہ دادیوں میں توازن پیدا کرنے کی ذمہ داری ریاستی مشینری کی ہے اور وہ حق اسی طریقہ سے استعمال کیا جا سکتا ہے – یہ فریضہ انجام دینے کے لئے مشینری دیانتداری ، غیر جانبداری، منصف مزاجی سے اپنے اختیارات استعمال کرنے کی پابند ہے – لیکن کوئی بھی حق حتمی نہیں ہوتا وہ ذمہ داریوں سے ہی مشروط ہوتا ہے –

جس قانون ( Peaceful Assembly and public order ordinance ) کے خلاف سول سوسائٹی کے کچھ حصے کے تحفظات اور اعتراضات ہیں وہ عوامی اجتماعات Assembly سے متعلق حق ہے جس میں جلسے جلوس اور احتجاج بھی شامل ہے – وہ سماجی ، سیاسی اور معاشرتی حقوق سے تعلق رکھتا ہے ، صرف انفرادی حق نہیں – یہ حق آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ 4 (4) (6) کا حصہ ہے جو یوں ہے ؛

“ Freedom Of Assembly: Every state subject shall have the right to Assemble peacefully and without arms subject to any reasonable restrictions imposed by law in the interest of public order.”
دنیا کے تقریبا تمام ملکوں بلخصوص ہندوستان، پاکستان، امریکہ، برطانیہ یورپی ملکوں حتی کہ Universal Declaration of Human Rights- International Covenant on Civil and Political Rights میں بھی اس حق کو بے شمار شرائط سے مشروط کیا گیا جن میں سے قبل از وقت اجازت لینا ، نیشنل سیکیورٹی ، پبلک سیفٹی ، پبلک آرڈر ، پبلک ہیلتھ اور آرڈر وغیرہ کے تابع کیا گیا ہے –

ہندوستان میں تو یہ حق ریاستی اقتدار اعلی اور ملکی سالمیت کے بھی تابع ہے – آزاد کشمیر میں نافذ کئے گئے اس آرڈیننس کے تحت اجتماعات کے انعقاد کی لئے ایک طریقہ کار مقرر کیا گیا ہے جس میں اجتماع کی تاریخ ، وقت ، مقام ، جماعت یا گروپ جس کی طرف سی ےاجتماع کا اہتمام کیا جارہا ہے، تعداد افراد ، گذر گاہ کا راستہ Route درج کر کے متعلقہ اتھارٹی سے اجازت طلب کرنے ، اس پر عمل کرنے ، اس کے انکار کی صورت میں اپیل کا حق، خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی وغیرہ کا بہ تفصیل احاط کیا گیا ہے – یہ پا بندیاں نہیں بلکہ طریقہ کار procedure ہے – یہ طریقہ کار آئین میں درج شرائط کی تفاصیل اور تقاضے ہیں جن کے زریعہ عوامی نظم و نسق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انتظامیہ ایسے اجتماع کی اجازت دینے کی پابند ہوگی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ انتظامیہ اس کے یقینی بنانے کی ذمہ دار بن جا ئیگی انکار کی صورت میں جواب دہ بھی ہوگی اور انکار اس قانون کی کوئی شرط پوری نہ ہونے کی صورت میں ہی کیا جا سکتا ہے ، صوابدید کا بے جا استعمال نہیں ہوگا جیسا کہ حکومت مخالف جماعتوں کے خلاف حکومت وقت کی انتظامیہ کرتی ہے –

اس قانون سے عدالتی مداخلت کا آئینی راستہ بھی کھل جائے گا جس سے انتظامی تحفظات اور عوامی مفادات کی نئی جہتیں سامنے آئیں گی- اجتماعات کے آئینی حق کو قانونی زمرے میں لا کر ایک regulatory اور احتسابی صورت دینا آئینی حقوق کا تقاضا ہے اس کی خلاف ورزی نہیں – ہاں اس کے غلط استعمال کی زمہ دار متعلقہ اتھارٹیز یا افراد ہونگے جو اس معاملہ کو منظبط کرنے کے لئے اس آرڈیننس کے تحت با اختیار بنائے گئے ہیں – اس خدشہ کی وجہ سے قانون باطل نہیں ہوسکتاہے ، اس کے خلاف کئے گئے اقدامات باطل اور اس کے ذمہ دار متعلقہ اہلکار ہونگے – اچھا حکمران برے سے برے قانون سے بھی اچھے نتائج مرتب کر سکتا ہے جبکہ برا حکمران اچھے قانون کے غلط استعمال سے انتشار پیدا کر سکتا ہے –

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے