اماں شاید ملے گی اللہ ہو میں
معروف انگریزپروفیسر سی ایم جوڈ (C. E. M. Joad: 1891-1953) نے جدید دور کے انسان کی کامیابیوں اور ناکامیوں پر اپنی کتا ب ” خدا اور بدی ” God and Evil میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ہم نے دریاؤں اور سمندروں میں مچھلیوں کی طرح تیرنا سیکھ لیا ہے اور فضاؤں میں پرندوں کی طرح اڑنا جان لیا ہے مگر زمین پر انسانوں کی طرح رہنا نہیں سیکھ سکے۔
اور بقول علامہ اقبال صورت حال یہ ہے کہ :وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا ہے فطرت کی طاقتوں کو، اسی کی بے باک بجلیوں سے خطر میں ہے اس کا آشیانہ!
علم بشریات کے ماہر اور بین الاقوامی تاریخ پر مشہور کتاب Study of History کے مصنف ، پروفیسر ٹائن بی (Toynbee: 1889-1975) نے تجزیہ کیا ہے کہ : جو مسائل ہمیں درپیش ہیں وہ اس نوعیت کے نہیں ہیں کہ ان کا جواب لیبارٹری میں تیار کیاجاسکے۔ یہ اخلاقی مسائل ہیں اور سائنس اخلاق کے دائرے میں کوئی دخل نہیں رکھتی۔ ان مسائل کو مادی تدابیر کے ذریعے حل کرنے کی ہماری کوششیں ناکام ہوچکی ہیں اور ہمارے تمام بلند بانگ دعوے محض مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔۔۔
وہ مزید لکھتا ہے کہ ہم اپنی معاشرتی بیماریوں کو خدا کے بغیر حل کرنے کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔اس کے خیال میں دورحاضر کی سب سے بڑی ضرورت فوق الطبیعی ایمان کا احیاء ہے۔ (History Warns the Modern Man: Study of History)
قرآن کریم میں رب ذوالجلال نے انسانوں کو سورة الحشر میں تنبیہ کی ہے کہ :ان انسانوں جیسا مت بن جانا، جنہوں نے خدافراموشی اختیارکرلی، اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر خود فراموشی طاری کردی، یہی لوگ ہیں جو نافرمانی میں مبتلا ہوئے۔یہی وہ لوگ ہیں جو معاشرتی زندگی کے مثبت پہلوؤں سے غافل اور اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں سے لاپرواہ ہوگئے۔
اس حالت کو قرآنِ کریم نے یوں بیان فرمایا ہے کہ :جو شخص رحمان کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق کار بن جاتا ہے۔ یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روک دیتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔(الزخرف:36 ،37 ) گویا کہ ان کے ہاں یہ تمیز و امتیاز ہی باقی نہیں رہتا کہ سیدھا راستہ دراصل ہے کیا ۔۔۔ وہ غلط کو صحیح ، حرام کو حلال اور ناجائز کو جائز تصور کرنے لگ جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی روحانی زندگی بنیادی طور پر چار عناصر سے عبارت ہے:ایمان ،عبادت ،اخلاق اور معاملہ۔۔۔زندگی ،کائنات اورخالق کائنات کے بارے میں باہم مربوط عقائد و نظریات کا نام ایمان ہے جس کے مطابق انسان اپنی اور اپنے مالک و رازق کی حیثیت اور مقام سے آگاہی حاصل کرتا ہے۔ اس آگاہی پر پختہ یقین کے ساتھ وہ اپنے پروردگار کے ساتھ تعلق کو مستحکم کرنے کے لئے کچھ رسوم بجالاتا ہے، جو باہم مربوط اور منظم صورت میں ایک خاص مقصدیت کی حامل ہوتی ہیں جن کا مقصود خالق کی خوشنودی اور مرضی کے ساتھ مطابقت پیداکرنا ہوتا ہے، زندگی کا یہ پہلو عبادات کے زمرے میں آتا ہے ۔
عبادات اگر اپنی اصلی حالت اور ہیئت میں موجود ہوں تو انسانی عادات و خصائل پر اثرانداز ہوتی ہیں اور انسان میں گوناگوں قسم کے اوصاف پیدا کرنے میں ممدومعاون ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے معیارات خیر و شر، اس کی پسند و ناپسند اور اس کی ترجیحات پر اثرانداز ہوتی ہیں اور یوں انسانی زندگی کا وہ پہلو جنم لیتا ہے جو اخلاقیات کے نام سے موسوم ہے۔
انسان کا وہ خاصہ ، جو ایمان کے بیج سے پیدا ہونے والی عبادات کے تنے پر سے اخلاق کی کونپلوں کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق پر اثرانداز ہوتا ہے، معاملہ کہلاتا ہے۔۔۔گویا دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلق، ربط اور لین دین دراصل انسانی معاملات ہیں ،جن کے ذریعے آدمی ایک دوسرے پر براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔
غور کیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ زندگی کے یہ چاروں پہلو باہم مربوط اور ہم آہنگ ہیں جن کا محور و مرکز ایمان ہے۔ ایمان و عقیدہ کی بنیاد پر زندگی کی ساری سرگرمیاں ترتیب پاتی ہیں، جس طرح بیج سے لے کر پھول تک کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ ایمان میں کمزوری، کجی یا بگاڑ ہوتو زندگی کے سارے نظام کوتاہی، تشکیک اور تخریب کا شکارہوں گے جبکہ ایمان کی صحت او ردرستی زندگی کو صراطِ مستقیم پر پوری توانائیوں کے ساتھ گامزن کردے گی۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں