6 نومبر 1947 شہداء جموں
کشمیر کی تاریخ میں بہت سے دن قابل ذکر ہیں ان میں 6 نومبر شہداء جموں کے نام سے نہ بھولنے والا ھے کشمیر یوں کی پاکستان سے محبت لازوال ھے کیونکہ 1947 سے قبل بھی کشمیری روز گار کے سلسلے میں پاکستان کے شہر وں کا رخ کرتے تھے کیونکہ سماجی اور جغرافیائی اعتبار سے بھی گہرا رشتہ تھا تحریک پاکستان کے دوران قائد اعظم نے کشمیر کے طویل وزٹ کئے عوام اور کشمیری رہنما رئیس احرار چوھدری غلام عباس سے احترام اور محبت کا گہرا رشتہ تھا جو اخر تک قائم رھا شیخ عبداللہ بہک گئی جسکی انھوں نے سزا بھی کاٹی اور انھوں نے اپنی کتاب اتش چنار میں بر ملا اظہار بھی کیا ال جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے قائد اعظم کے شانہ بشانہ تحریک پاکستان میں کردار ادا کیا 19 جولائی 1947 ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان سے الحاق کے ذریعے متفقہ قرارداد منظور کی جموں، راجوری، اودھم پور، کٹھوعہ، ریاسی، سانبہ دیگر علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی جموں وکشمیر کے لوگوں نے قیام پاکستان پر گھر گھر جشن منایا چراغاں کیا گیا یہ خوشی مہاراجہ کی حکومت اور کا نگریسی رھنماوں کو ایک انکھ نہیں بھاتی تھی اس سے قبل 27اکتوبر 1947 کو بھارت واسرائے ،مہاراجہ، شیخ عبداللہ کی ملی بھگت سے اپنی فوجیں کشمیر میں اتار چکا تھا یہ سارا جال مظلوم کشمیریوں کے خلاف بچھایا گیا سرکاری سر پرستی میں ان علاقوں میں اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا منصبوے تیار کئے گے مہاراجہ کی سر پرستی میں جن سنگھی ار ایس ایس غنڈوں کی مدد سے قتل عام کیا گیا
مسجدوں اور تھانوں میں اعلانات کئے گے جو لوگ پاکستان جانا چاھتے ھیں وہ اکٹھے ھو جائیں سینکڑوں بسوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو سوار کرایا گیا سوچیت گڑھ سانبہ, استواری سے اگے لے جاکر راشتڑ سیوک سنگھ کے غنڈے جو سرکاری سر پرستی میں اسلحے سے لیس اور پہلے سے چھپے تھے گاجر مولی کی طرح معصوم کشمیر یو ں کا قتل عام کیا گیا تاریخ دان لکھتے ھیں کہ دریائے توی کا پانی کئی ماہ سر خ رھا یہ عمل 3 4 5 6 نومبر کو بالترتیب دھرایا گیا مورخین کے مطابق 3 سے 4,لاکھ معصوم افراد نے جا م شہادت نوش کیا عورتوں اور بچوں کے اغوا کی طویل داستان ھے کشمیری جو بچے وہ پاکستان اگئے مخلتف مقامات پر پاکستان اور ازاد کشمیر میں اباد ھوگے لیکن اکثریت کی یہ ھی خواھش تھی کہ اپنے وطن واپس جائیں گے لیکن ایسا نہ ھو سکا دو نسلیں۔ یہ ھی خواھش لئے دنیا سے چلی گئیں بھارت کا ظلم ستم اس طرح جاری ھے اقوام متحدہ کی وہ قرار دیں جو جوال لال نہرو اقوام متحدہ میں لیکر گیا اور تسلیم کر کے ایا اس پر عمل درآمد سے بھارت کی ھر حکومت انکاری ھے اس سلسے میں بھارت کے ساتھ 1965 1971 میں دو جنگیں بھی ھو چکی ھیں اقوام متحدہ اور بڑوں طاقتوں کا دوھرا معیار بھی مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ ھے اور حکومت پاکستان بڑی طاقتوں کے دباو کی وجہ سے ھر حکومت مصلحت کا شکار رھتی ھے پاکستان کی عوام مسلح افواج پاکستان نے ھمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا اب بھی دے رھے ھیں قومی رھنماوں میں چوھدری غلام عباس کے بعد مجاھد اول سردار عبد القیوم خان ، سردار سکند حیات خان کے ایچ خورشید کشمیریوں کی توانا آواز تھے معرف صحافی اور نوائے وقت کے اڈیٹر انچیف متحرم مجید نظامی کشمیریوں کے پشت بان تھے
انھو ں اپنی پوری زندگی نظریہ پاکستان اور مسلہ کشمیر پر وقف کر رکھی تھی کشمیر یوں کی مضبوط اواز تھے جس سے بھارت بھی خوف زدہ تھا پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان نے ھر فورم پر کشمیر یوں کے سفیر ھونے کا حق ادا کیا اب مودی حکومت نے جو۔ ا پنے ائین کی شکین 370, 35A کو منسوخ کر کے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاھتی ھے عوام کے بنیادی حقوق تک پامال کر رھی ھے غیر ریاستی افراد کو کشمیر کی نیشنلٹی دے رھا ھے حالیہ نام نہاد انتخابات میں بھی حکومتی لوگوں کو عبرتناک شکست ھوئی ھے تحریک آزاد ی کشمیر جاری ھے بھارت کا ظلم ستم اپنی شدت سے جاری عوام مقبول بٹ شہید اور افضل گورو جیسے شہیدوں کو کیسے بھول سکتے ھیں حریت لیڈر یا سین ملک موت کی کوٹھری میں سخت قید کاٹ رھے ھیں
دیگر رھنما بھی پابند سلاسل ھیں نوجوان اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رھے ھیں ھماری حکومت ازاد کشمیر جس کو بیس کیمپ میں تحریک ازادی کے لئے قائم کیا گیا تھا وہ عوام کو دبانے کے لئے کالے قوانین بذریہ صدارتی ایکٹ نا فد کر رھی ھے یہ پیغام مقبوضہ کشمیر سمیت پوری دنیا کو جارھا جو کہ بڑی مایوسی کی بات ھے کشمیر یوں کو اوڑھنا بچھونا پاکستان جو ھمارا وکیل ھے ھے وہ اپنی مشکلات کی وجہ سے اپنے مسائل میں الجھا ہوا ھے مسئلہ کشمیر تر جیح ھونا چاھیے لیکن افسوس ایسا نظر نہیں ارھا جس سے بھارت کے حوصلے بلند ھورھے ھیں وہ کشمیر یوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رھا ھے لیکن بھارت یاد بھی رکھے اور لکھ لے کشمیری نہ تھکے ھیں نہ جھکے ھیں با لا اخر بھارت کو ازادی دینا پڑھے گی بھارت اپنے انجام کو پہنچے گا جتنی جلدی ازادی دے گا اس کے لئے بہتر ھوگا۔
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں