ٹرمپ کےحامیوں کو کچرا کہنے پر امریکی صدر مشکل میں پھنس گئے

امریکی صدر جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں ایک مقرر کے نسل پرستانہ بیان کو نشانہ بنانا الٹا پڑ گیا ۔ کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ات کو نشانہ بنایا۔ بائیڈن کے بیان پر ریپبلکنز اور ٹرمپ نے الزام لگایا کہ امریکی صدر نے ان کے حامیوں کو کچرا کہا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا

جب نیو یارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں اتوار کے روز ہونے والی ایک ریلی میں کامیڈین ٹونی ہنچکلف نے پورٹو ریکو کو کچرے کا تیرتا ہوا جزیرہ قرار دیا، جس کے بعد مزید نسل پرستانہ بیانات دیے گئے۔بائیڈن نے منگل کو ایک فنڈ ریزنگ کال کے دوران اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واحد کچرا جو میں تیرتا ہوا دیکھ رہا ہوں وہ ان کے حامیوں اور ان کا لاطینی لوگوں کے خلاف شیطانی پروپیگنڈہ ہے

جو ناقابل قبول اور غیر امریکی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بعد میں صدر اس بیان کا ٹرانسکرپٹ بھی ایکس پر شیئر کیا ۔ٹرمپ کے حامیوں نے بائیڈن کے اس بیان کا ہیری کلنٹن کے 2016 کے بیان کے ساتھ کیا ۔ اس وقت کی ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن نے ایک ریلی میں کہا تھا کہ آپ ٹرمپ کے نصف حامیوں کو افسوسناک افراد کی ٹوکری میں ڈال سکتے ہیں۔امریکی کے انتخابات میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے ۔

پانچ نومبر کو کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ میں سے ایک نیا امریکی صدر چنا جائے گا ۔ موجودہ صدر اور وائٹ ہاؤس نے بائیڈن کے بیان پر فوری طور وضاحت جاری کی کہ بائیڈن نے اپنے بیان میں ٹرمپ کے حامیوں نہیں بلکہ ان کے نفرت انگیز بیانیے کا حوالہ دیا تھا۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے