انسانی جزیروں میں سماجی تتلیاں
اہل دانش کا خیال ہے کہ پہلے انسان غاروں میں رہا کرتا تھا، قبائل کی شکل میں۔ پھر اس نے آہستہ آہستہ تہذیب سیکھی۔ قبائلی دور سے گزرکر اس نے بڑے خاندانوں میں تقسیم ہونا یا مجتمع ہونا شروع کیا۔ خاندان کبیر (Macro Family)سے مزید ترقی کرتا ہوا خاندان صغیر (Nuclear Family) کی ارتقائی حالت میں آگیا۔ اس کے بعد اس نے اس سے بہتراور مفیدنظام کی تلاش شروع کی اور وہ موجودہ دور میں یک ولدیتی یا وحدانی خاندان (Single Parents) کی زندگی گزارنے پر راضی ہوگیا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جس کا جب جی چاہے جنس مخالف سے رابطہ اور رتعلق استوار کرے اور جس سے جب چاہے قطع تعلق کرلے۔ اگر اولاد ہو تو وہ والدہ کے ساتھ رہے اور اسی ذریعے پہچانی جائے۔
دورِ جدید میں انسان نے تہذیب کی بنیادی اکائی خاندان کے مقابلے میں متبادل طرزِ حیات (Alternative Way of Life)اختیارکئے اور مردوعورت کے جنسی تعلق کو صرف لطف حاصل کرنے کے سب سے بہتر ذریعے کے طور پر اپنایا جبکہ اپنی نسل بڑھانے کے لئے ٹیسٹ ٹیوب بے بی اور کلوننگ (Cloning) کے راستے کھولنا چاہتا ہے۔
دانشوروں کا کہنا ہے کہ انسانی علم اور عمل کا یہ عروج ،موجودہ سنہری تہذیب (Golden Culture) کا طرئہ امتیاز ہے۔ تہذیب کیا ہے؟ یہ انسانی زندگی اور کائنات کے بارے میں ایک خاص طرزِ فکر اور اس طرزِ فکر پر عمل میں آنے والا رہن سہن کا نام ہے۔ انسانی تہذیب کا ایک رخ سیاست ہوتاہے، جس کے ذریعے ریاست و حکومت کے امور چلائے جاتے ہیں، انسانی تاریخ میں اس سلسلہ میں دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں؛ ایک آمریت یا فرد واحد کی حاکمیت (Dictatorship) اور دوسرا جمہوریت (Democracy) ۔ موجودہ تہذیب اس اعتبار سے جمہوری تہذیب ہے لہٰذا ، پہلے سے بہتر ہے۔
تہذیب کا دوسرارخ معیشت ہے جو یا تو سرمایہ دارانہ (Capitalistic) ہوسکتی ہے ، جس میں ذرائع پیداوار سرمایہ دار کے ہاتھ میں ہوتے ہیں یا اشتراکی (Socialist) جس میں ذرائع پیداوار اجتماعی یا ریاستی ملکیت میں ہوتے ہیں۔ہماری تہذیب اس حوالے سے بھی ہر دونظاموں کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ بہر حال غلبہ سرمایہ داری کے نظام کو حاصل ہے، جو آزاد لوگوں کو مرغوب، لہٰذا آج کل آزاد منڈی کی معیشت (Free Market Economy)کھل کھیل رہی ہے۔ تہذیب کا تیسرا رخ ثقافت ہوتی ہے ، انسانی ذہن کی آبیاری اور خوشگواری کے ذرائع پر مشتمل ہوتی ہے۔دنیاکی ثقافت ،پہلے مجموعی طور پرمذہبی اور روحانی رنگ لئے ہوئے تھی، جدید دور میں غیر مذہبی اور مادی (Secular)شاہراہ پر گامزن ہے ،مذہب اور خدا اپنااپنا۔
تہذیب کا چوتھا ستون سماج ہوتا ہے جو بالعموم انفرادیت پسندی (Individualism) پر مشتمل ہوتا ہے یا اجتماعی سوچ (Communal Approach)کا آئینہ دار۔ یہ دونوں صورتیں بیک وقت بھی کسی معاشرے میں موجود ہوسکتی ہیں۔ موجودہ تہذیب اس پہلو میں بھی ترقی کا دعویٰ رکھتی ہے کیوں کہ فرد کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں۔۔۔ وہ انفرادیت کے جنون سمیت اجتماعیت کے مزے لے سکتا ہے۔
تہذیب کا پانچواں رخ ازدواجی معاشرت کا ہے، جو یا تو مرد کی سربراہی پر مشتمل خاندان (Patriarchal) کی شکل میں ہوتا ہے ، عورت کی سربراہی یا ماں کی سرکردگی میں (Matriarchal) موجودہ تہذیب کا یہ رخ بھی ترقی یافتہ ہے اور موجودہ دور کی عورت ہی مستقبل کی نسلوں کا فیصلہ کرنے میں آزادو خود مختار ہے،اور مرد اس سلسلہ میں ذمہ داری سے گریز پر ہی اکتفاکرتا نظر آتاہے۔
تہذیب و معاشرت کی بنیادی اکائی خاندان ہے اور اس کی بہتری و بدتری پر پورے معاشرے کی خوشحالی اور زوال کا انحصار ہے۔ اس اصول سے انحراف اور خاندان کے اجتماعی ماحول سے آزادی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ترقی یافتہ معاشروں میں انسان جنگلی جانور کی زندگی گزار رہا ہے۔
خودغرضی کے اجتماعی ماحول نے دوسرے انسانوں کے لئے ہمدردی، ایثار، خلوص اور خیر خواہی کے سارے جذبے اس سے چھین لئے ہیں۔ آبادیوں کے سمندر میں رہتے ہوئے، لا تعداد انسانی جزیرے (Human Islands)نظرآتے ہیں۔ خواہشات کی غلامی اور مفادات کی پوجا نے، لوگوں کو سماجی تتلیوں (Social Butterflies) میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ صرف اپنی غرض کے پورا کرنے تک جڑی رہتی ہیں۔
انسان نے اپنی تعلیم و تربیت اور تعمیرکردار کے فطری اور قدرتی اداروں۔۔۔ماں کی گود اور گھر کے گہوارے ۔۔۔سے بغاوت کرلی ہے اب اسے بے روح اور غیر ہمدرد مشینوں پر انحصار کے ساتھ مصنوعی طرز حیات اپنانا پڑرہا ہے۔ بچوں کے مراکز (Day Care Centers)، بوڑھوں کے گھر (Old Houses)،معذوروں کے سنٹرز ، سماجی خدمات کی انجمنیں، رضاکاروں کے کلب۔۔۔فلاحی مملکت (Welfare State)کے یہ سارے ادارے موجود لیکن انسان کو روحانی تسکین سے ہمکنار کرنے والا خاندان کا قدرتی ادارہ رو بہ زوال ہے ۔
یہ مصنوعی اور مشینی طرز کافلاحی معاشرہ انسان کی باطنی شخصیت میں پنپنے والی امراض کا مداوہ کیسے کر پائے گا؟ تہذیب کے اس عروج کو میں کیا کروں جب میری سیاست ، مفادات کے حصول کا طریق کار بن گئی ہے۔ معیشت ، پر تعیش زندگی کے حصول کا ذریعہ ٹھہری ہے۔ ثقافت، لذت کے حصول (Enjoyment) کا آرٹ بن گئی ہے۔ سماجی زندگی ذاتی اغراض کے گرد گھومنے لگی ہے اور معاشرت ، جنسی تعلق کے بہتر سے بہتر ماحول اور بد تر سے بدترین طریقے تلاش کرتی ہے۔ یہ سنہری تہذیب ہے یا انسان کا خود پیدکردہ جہنم؟
تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں