پنجاب کالج مبینہ زیادتی واقعہ کا ڈراپ سین، لڑکی اور اس کے والد کا بیان سامنے آگیا

پنجاب کالج مبینہ زیادتی واقعہ کا ڈراپ سین ۔لڑکی اور اس کے والد نے تحقیقاتی کمیٹی کو بیان جمع کروا دیا ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کالج زیادتی کی جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلا کرطلبا میں اشتعال پھیلانے کی سازش ناکام ہو گئی ہے ۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی میں لڑکی اور اس کے والد نے اپنا بیان جمع کروادیا ہے ۔


لڑکی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2اکتوبر کی رات میں میں چارپائی سے ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گری ۔ 3اکتوبر کو ڈاکٹر صابر حسین بھٹی کے کلینک گئی ، دوائیوں سے فرق نہ پڑا تو 4تاریخ کو اتفاق ہسپتال جو ماڈل ٹائون میں ہے میں ایڈمٹ ہوئی ، طبیعت نہ سدھرنے اور سانس کی شدید تکلیف کے باعث آئی سی یو داخل ہو گئی ۔ 9تاریخ کو مجھے وارڈ شفٹ کیا گیا جبکہ 11اکتوبر بروز جمعہ مجھے ڈسچارج کر دیا گیا اور 15دن آرام کا مشورہ دیا گیا جس کی تمام رپورٹس موجود ہیں ۔ ہفتہ کی رات آئی جی آفس سے کال موصول ہونے پر واقعہ کا پتہ چلا اور سانحہ کی شدت کا ادراک سوشل میڈیا سے ہوا۔ میرے پاس اپنے تمام شواہد موجود ہیں ۔ یہ واقعہ من گھڑت ہے اور نا معلوم عناصر نے اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے کیلئے گھڑا ہے ۔سوشل میڈیا پر لگنے والی کسی پوسٹ کامجھ سے کوئی تعلق نہیں ، برائے مہربانی ان عناصر سے سختی سے نمٹا جائے ۔
بچی کے والد کی جانب سے بھی بیٹی کے بیان سے ملتا جلتا بیان ہی کمیٹی کو جمع کرایا گیا ہے ۔

 

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں

یہ بھی پڑھیے