اسلام آباد کے بعد راولپنڈی اور اٹک میں بھی رینجرزتعینات
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر وزارت داخلہ نے اسلام آباد کے ساتھ ساتھ راولپنڈی اور اٹک میں بھی پاکستان رینجرز کے دستے طلب کر لئے ہیں۔ یہ اقدام سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
چیف کمشنر اسلام آباد اور محکمہ داخلہ پنجاب نے رینجرز کی تعیناتی کے لئے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، جس کے جواب میں وزارت داخلہ نے سول انتظامیہ کی مدد کے لئے ہدایات جاری کیں۔
ایس سی او اجلاس کے سلسلے میں وفاقی دارالحکومت کی تمام حساس سرکاری عمارتوں کو پہلے ہی آرمی، رینجرز اور ایف سی کی سیکیورٹی میں دیا جا چکا ہے۔حکومت نے سمٹ کے انعقاد کے دوران ریڈ زون میں عام لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے، تاکہ سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال کے پیش نظر، راولپنڈی اور اٹک سے ممکنہ مظاہرین کی اسلام آباد آمد کے پیش نظر مزید سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں، تجزیوں اور روز مرہ کے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر روزنامہ ’’گل بات‘‘ کا ’آفیشل چینل یا آفیشل گروپ‘ جوائن کریں